ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / موگیرکمیونٹی کے دھرنے کا ایک سال مکمل ہونے پرتعلقہ انتظامیہ عمارت کے باہرزبردست احتجاج؛ ڈی سی کی کار روکی گئی؛ حالات کچھ دیر کے لئے کشیدہ

موگیرکمیونٹی کے دھرنے کا ایک سال مکمل ہونے پرتعلقہ انتظامیہ عمارت کے باہرزبردست احتجاج؛ ڈی سی کی کار روکی گئی؛ حالات کچھ دیر کے لئے کشیدہ

Thu, 23 Mar 2023 22:32:32    S.O. News Service

بھٹکل 23 مارچ (ایس او نیوز) درج فہرست ذات کے سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے تعلقہ کی موگیر برادری کے دھرنا ستیہ گرہ کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد آج جمعرات کو ہزاروں کی تعداد میں موگیربرادری کے لوگوں نے تعلقہ انتظامیہ کی عمارت کے سامنے جمع ہوکر زبردست احتجاج کیا۔

جمعرات کی صبح موگیرشیڈول کاسٹ جدوجہد کمیٹی کے صدرایف کے موگیر اور بھٹکل موگیر سماج کے صدرانپآ موگیر کی قیادت میں مظاہرین نیلے جھنڈے اور جئے بھیم کے نعروں کے ساتھ تعلقہ انتظامیہ کی عمارت کے باہر جمع ہوگئے اورحکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ تحصیلدار تپؔے سوامی نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو منانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مظاہرین کا اصرار تھا کہ ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک ڈپٹی کمشنر جائے وقوع پر نہیں پہنچتے اور ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دیتے۔

اس موقع پرحکومت اورسماجی بہبود کے وزیر کوٹا سری نواس پجاری کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج میں شدت آتی گئی۔ اس کے کچھ دیر بعد ضلع کےڈپٹی کمشنر پربھولنگا کولیکٹے اور ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشنو وردھن دونوں کاروار سے سیدھے جائے وقوع پر پہنچے اورمشتعل افراد کی شکایتیں سنیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے موگیر برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ 15 سالوں سے موگیر اپنے درج فہرست ذات کے سرٹیفکیٹ کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اگرچہ قومی درج فہرست ذات کمیشن، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے واضح ہیں، لیکن حکومت نے موگیروں کے تئیں غفلت برت رہی ہے۔ ہم نے مارچ 2022 کے مہینے سے ہڑتال شروع کررکھی ہے اور حکومت کی طرف سے جن دستاویزات کو پیش کرنے کہا گیا تھا، تمام دستاویزات پیش کی جاچکی ہیں۔ ہم نے حکام کے ہر سوال کا مناسب جواب دیا ہے،  تاہم، جون 2022 میں، حکومت نے موگیروں کو درج فہرست ذات کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے حوالے سے ایک محدود مدت کے اندر رپورٹ جمع کرانے پر پابندی لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، لیکن کمیٹی نے ابھی تک کوئی رپورٹ جاری نہیں کی۔ موگیر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ کمیٹی قائم ہونے کے بعد بس وقت بڑھتا جارہا ہے اور حکومت ہماری مانگوں پرکان نہیں دھررہی ہے۔ اب ہمارے دھرنا ستیہ گرہ کے ایک سال مکمل ہوگئے ہیں مگر حکومت، وزراء اور عہدیداراپنے وعدے پورے نہیں کررہے ہیں۔  موگیر کمیونٹی کے لیڈران نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے لہٰذا ہم انصاف ملنے تک یہاں سے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

احتجاج کرنے والوں میں موگیرسماج کے اہم لیڈران بھاسکر موگیر، جٹّا موگیر، داسی موگیر، مُکند موگیر، سدانند موگیر، یادو موگیر، شری دھر موگیر، پُنڈلیک موگیر، شنکر، وینکٹ رمن، نارائن، اُمیش، کرشنا، گنیش موگیر وغیرہ موجود تھے۔

ڈپٹی کمشنر اورایس پی کی موگیر کے رہنماؤں سے ملاقات:
احتجاج کے دوران ضلع کے ایس پی وشنووردھن نے موگیر رہنمائوں کو اسسٹنٹ کمشنر کے دفترمیں طلب کیا جہاں موگیر رہنمائوں اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے درمیان میٹنگ ہوئی۔ موگیر برادری کے رہنماؤں کا بیان سننے کے بعد ڈپٹی کمشنرنے موگیر شیڈولڈ کاسٹ اسٹڈی کمیٹی کے چیئرمین اور میسورریجنل کمشنر سے فون پر بات کی اور ان سے جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی درخواست کی۔ بعد ازاں ضلع کےڈپٹی کمشنر نے موگیر برادری کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اگلے 15 دنوں کے اندر اسٹڈی کمیٹی کے ارکان بھٹکل پہنچیں گے اور موگیربرادری کے قائدین سے بات چیت کرکے حتمی رپورٹ حکومت کو سونپیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے موگیر رہنمائوں سے درخواست کی کہ تب تک امن برقراررکھیں۔

موگیر کےضلعی صدر نے کہا کہ کمیٹی تشکیل دینا ہی غلط ہے۔
موگیرسماج کے ضلعی صدر کے ایم کرکی جو ڈپٹی کمشنر کی طرف سے موگیرسماج کے قائدین کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں پہنچے تھے، نے واضح طور پر کہا کہ نیشنل شیڈولڈ کاسٹ کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد موگیر کو شیڈولڈ کاسٹ قرار دیا ہے۔ اتنا سب ہونے کے باوجود پھر ایک بارموگیر کمیونٹی کی ذات کو لےکرآیا یہ شیڈول کاسٹ میں آتے ہیں یا نہیں، الگ سے کمیٹی تشکیل دینا غیر قانونی ہے۔

موگیرسماج کے رہنمائوں نے کہا کہ موگیرسماج کو شیڈول کاسٹ میں شامل کئے جانے کا کمیشن یا عدالت کا حکم کوئی بھی سرکاری اہلکارپڑھ سکتا ہے۔ موگیر لیڈران نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور تحصیلدار کو چاہئے کہ وہ  کمیشن کی رپورٹ کا انتظارنہ کرے اور سپریم کورٹ کے حکم پر کاروائی کرے، جواب میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہمیں کمیٹی کے تشکیل کے تعلق سے بات نہیں کرنی چاہئے۔ یہ حکومت کا فیصلہ ہے۔ بحث اور جوابی بحث کے باعث اجلاس میں کچھ دیر تک افراتفری کا ماحول رہا۔

ڈپٹی کمشنر کی کار کا گھیراو:
جب ڈپٹی کمشنر اور ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موگیر قائدین کے ساتھ بات چیت کے بعد تعلقہ انتظامیہ کی عمارت سے باہر نکلے تو مظاہرین نے سڑک کو جام کردیا اورڈپٹی کمشنر کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔ اس درمیان حالات کچھ دیر کے لئے کشیدہ ہوگئے، حالات سے پریشان  افسران کو واپس اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر جانا پڑا۔ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک ڈپٹی کمشنر کو باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔ ایک موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان زبانی چھڑپیں بھی ہوئی۔ صورتحال تشویشناک موڑ اختیار کرتی نظر آئی۔ کچھ دیر کے لئے لگا کہ پولس اب لاٹھی چارج پر اُترسکتی ہے۔

اس موقع پر ڈی وائی ایس پی سری کانت، پولس انسپکٹر منجوناتھ گوڑا، گوپی کرشنا، چندن گوپال، تیمپآ نائک، سی پی آئی منجوناتھ اور دیگر نے مظاہرین سے امن وامان کو خراب نہ کرنے کی درخواست کی۔ مگرمظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھا، جس پر پولیس نے وارننگ دی کہ وہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ بعد ازاں مقامی پولیس افسران نے موگیر برادری کے نوجوان رہنماؤں سے بات چیت کی اور انہیں اپنا احتجاج ختم کرنے کو کہا جس پر مظاہرین نے حکومت اور عہدیداروں کے خلاف اپنا غصہ نکالتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ موگیر کے احتجاج کے پیش نظر بھٹکل، ہوناور، کمٹہ سمیت مختلف علاقوں سے پولیس کی زائد فورس تعینات کی گئی تھی۔


Share: